Showing posts with label قسط نمبر6. Show all posts
Showing posts with label قسط نمبر6. Show all posts

Saturday, November 9, 2019

*** Reproductive System *** *** نظام تولید *** * قسط نمبر 6 * (مردانہ نظام تولید)



*** Reproductive System ***
*** نظام تولید ***
* قسط نمبر 6 *
(مردانہ نظام تولید)
* سپرم سیلز بننے کے دوران ھارمونز کا کردار *
ھارمون ایک کیمیائی پیغام رساں ہیں.
سپرم سیلز بننے کا عمل کچھ ھارمونز کے تابع ہوتا ہے. جو کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس عمل پر اثر انداز ہوتا ہے.
1.. GnRH (Gonadotropin Releasing Hormone)
2.. FSH (Follicle Stimulating Hormone)
3.. Testosterone
4.. Estrogen
5.. LH (Luteinizing Hormone)
6.. Growth Hormone
7.. Inhibin
7.. Activin
دماغ میں موجود ھائپو تھیلامس سے ایک ھارمون GnRH (Gonadotropin Releasing Hormone) خارج ہوتا ہے. اس کا ہدف دماغ میں موجود پچوٹری گلینڈ ہوتا ہے. اب یہ پچوٹری گلینڈ GNRH کی تحریک کے زیر اثر دو قدم کے ھارمون پیدا کرتا ہے
1.. FSH (Follicle Stimulating Hormone)
2.. LH (Luteinizing Hormone)
ھارمون FSH کا ہدف منوی نالیوں میں موجود سرٹولای خلیات Sertoli Cells ہوتے ہیں.
ھارمون LH کا ہدف منوی نالیوں سے باہر لیڈنگ سیلز ہوتے ہیں. لیڈنگ سیلز ٹیسٹوسٹیران نامی ھارمون پیدا کریں گے. ٹیسٹوسٹیران مردانہ جنسی ھارمون ہے. یہ ھارمون مرد میں ثانوی جنسی تبدیلی کا ذمہ دار ہوتا ہے. ٹیسٹوسٹیران لیڈنگ سیلز پر بھی اثر انداز ہوتا ہے. جس کے نتیجہ میں لیڈنگ سیلز متحرک ہو کر غذائی اجزاء وغیرہ فراہم کرتے ہیں.
اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ھارمون سپرم بننے کے عمل میں سہولت کار کے طور پر کام کرتے ہیں.
سرٹولای سیلز ایک ضروری ھارمون Inhibin پیدا کرتے ہیں. جو کہ پچوٹری گلینڈ سے FSH نامی ھارمون کو بند کرنے کا سگنل دیتے ہیں. جس سے سپرم سیلز کے بننے کا عمل رُک جاتا ہے.
سرٹولای سیلز، Activin نامی ھارمون پیدا کرتے ہیں جو کہ پچوٹری گلینڈ FSH نامی ھارمون کو بنانے کا سگنل دیتے ہیں.
** Blood Testes Barrier **
** خصیتین میں خون کی روک **
خصیوں میں موجود منوی نالیوں میں خون کی آمدورفت روکنے کے لئے ایک رکاوٹ موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر اینٹی باڈی اور دوسرے بڑے مالیکیول داخل نہیں ہو سکتے.
پچھلی قسط میں بیان کیا گیا تھا کہ سپرم سیلز بننے کے دوران "می اوسس" کے عمل کے بعد سپرم سیلز میں کروموسومز کی تعداد آدھی یعنی کہ 23 رہ جاتی ہے. یوں یہ خلیات دوسرے جسمانی خلیات سے جینیاتی طور پر علیحدہ ہو جاتے ہیں. جس کی وجہ سے ہمارے جسم کا مدافعتی نظام اس پر حملہ کر سکتا ہے جس سے سپرم بننے کا عمل نہ کہ بُری طرح متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ عمل بالکل ختم ہو جانے کا خدشہ بھی ہوتا ہے. اس رکاوٹ کی وجہ سے خون منوی نالیوں میں داخل نہیں ہو پاتا اور سپرم بننے کا عمل بخیر انجام پاتا ہے.
اکثر مرد حضرات میں بچپن یا بعد میں "کن پیڑے" Mumps یا کسی بھی وائرل انفیکشن، بیماری یا چوٹ لگنے سے منوی نالیوں میں خون کے بہاؤ کو روکنے والی رکاوٹ Blood Testes Barrier خراب ہو جاتی ہے. جس سپرم سیلز کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں. جونہی یہ سپرم سیلز خون میں پہنچتے ہیں تو ہمارا مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا ہے. جس کے نتیجہ میں سپرم سیلز کے خلاف اینٹی باڈی بنتی ہیں اور ان کو دشمن سمجھ کر ختم کر دیا جاتا ہے. جس کی وجہ سے میچور سپرم بننے کا عمل ختم ہو جاتا ہے. ایزو سپرمیا ( سپرم سیل موجود نہ ہونا ) کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے.
طالب دعا
حکیم عطاءالرحمن

زنانہ نظام تولید

*** زنانہ نظام تولید ***
*** Female Reproductive System ***
قسط نمبر 6
*** بیضہ بننے کا عمل***
*** Oogenesis ***
خواتین میں بیضہ بننے کا عمل پیدائش سے پہلے شروع ہو جاتا ہے. حمل کے دوسرے ماہ زنانہ جنین میں زنانہ نظام تولید کی لائننگ بننا شروع ہو جاتی ہے. پیدائش سے قبل مادہ جنین کی بیضہ دانی میں تقریباً سات ملین بیضہ پائے جاتے ہیں. بوقت پیدائش اس میں کافی زیادہ بیضہ ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی تعداد گھٹ کر تین سے چار لاکھ رہ جاتی ہے. جو کہ بلوغت تک پہنچتے پہنچتے صرف چند ہزار رہ جاتے ہیں. ان بچ جانے والے بیضہ میں سے جو میچور ہو پائیں گے ان کی تعداد صرف چند سو کے قریب ہوتی ہے.
اب ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں. خواتین میں بیضہ بننے کا عمل بیضہ دانی میں تکمیل پاتا ہے. یی سارا پراسس چند ھارمونز کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے. اووری Ovary یا بیضہ دانی میں کچھ خاص قسم کے خلیات پائے جاتے ہیں جن کو Oogonium اووگونیم کہا جاتا ہے. ان خلیات سے بیضہ بننے کا عمل شروع ہوتا ہے. یہ ڈپلائیڈ یا 2N خلیات ہوتے ہیں. یعنی کہ اس میں کروموسوم کی تعداد پوری چھیالیس ہوتی ہے.
یہ خلیات مائی ٹوسس یا بالواسطہ تقسیم کے ذریعے اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں. اس عمل میں کروموسوم کی تعداد ایک جیسی ہی رہتی ہے. ان نئے بننے والے خلیات میں سے کچھ خلیات نمو پا کر تفریق کریں گےاور اووم یعنی یعنی بیضہ بننے کے عمل کی طرف چلیں گے. ان کو Primary Oocyte کہیں گے. اب ان پرائمری یا ابتدائی خلیات میں می اوسس کا عمل وقوع پذیر ہو گا. مگر یہ می اوسس کا عمل مکمل طور پر وقوع پذیر نہیں ہو پائے گا اور یہ خلیات می اوسس کی پہلی سٹیج "پروفیز 1" پر رک جائیں گے اور بلوغت تک اووری میں ہی قیام کریں گے. بوقت بلوغت اس می اوسس کا مرحلہ مکمل ہو گا اور دو خلیے بنیں گے. ایک چھوٹا اور دوسرا بڑا خلیہ ہو گا. اس میں بھی کروموسوم کی تعداد چھیالیس ہوتی ہے. چھوٹے خلیہ میں سائیٹو پلازم بہت ہی کم مقدار میں پایا جاتا ہے اور یہ چھوٹا خلیہ ختم ہو جاتا ہے.اس چھوٹے خلئے کو First Polar Body کہیں گے. بڑے والے خلئے میں سائیٹو پلازم اور نیوکلیئس وغیرہ پایا جاتا ہے. اس کو اس سٹیج پر سیکنڈری او سائٹ Secondary Oocyte کہیں گے. اس بڑے خلئے میں می اوسس 2 کا عمل شروع ہو گا. مگر یہ عمل بھی مکمل طور پر پورا نہیں ہو گا. اور خلیاتی تقسیم کا عمل میٹافیز 2 کی سٹیج پر رک جائے گا. اور اس سٹیج پر انڈہ ماہواری کی صورت خارج ہو جائے گا. اگر اس سٹیج پر سپرم سیل آ کر بیضہ سے ملتا ہے تو یہ اپنی تکمیل کا عمل مکمل کرتا ہے. اور دو خلیات بنائے گا. چھوٹا خلیہ جو کہ بغیر سائٹوپلازم کے ہو گا. اسے کو سیکنڈ پولر باڈی 2nd Polar Body کہیں گے. بڑا خلیہ کو اووم ovum کہیں گے. اس میں کروموسوم کی تعداد آدھی ہو گی. فرسٹ اور سیکنڈ پولر باڈی ختم ہو جائیں گے. یعنی کہ سپرم سیل کے ملنے پر می اوسس2 کا عمل مکمل ہو گا. اووم جب سپرم سے مل کر زائیگوٹ بنائے گا تو پھر سے اس میں کروموسوم کی تعداد چھیالیس ہو جائے گی.
( جاری ہے)
طالب دعا
حکیم عطاءالرحمن